Skip to main content

جنرل راحیل شریف کے صبر کا پیمانہ لبریز،نریندرمودی اور بھارتی خفیہ ایجنسی کو خطرناک نتائج سے آگاہ کردیا


گلگت(نیوزڈیسک)جنرل راحیل شریف کے صبر کا پیمانہ لبریز،نریندرمودی اور بھارتی خفیہ ایجنسی کو خطرناک نتائج سے آگاہ کردیا، پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے دو ٹوک الفاظ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور خفیہ ایجنسی را کو متنبہ کیا ہے کہ ہم اپنے دشمنوں اور ان کی چالوں کو سمجھتے ہیں۔ مودی ہو یا را سن لیں، ہماری سرحدیں محفوظ ہیں۔ ہم اپنے ملک کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ ملکی سلامتی کیلئے آخری حد سے بھی آگے جائیں گے۔ قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ ہمارے ملک کی سرحدیں محفوظ ہیں۔ پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم بالکل صحیح سمت پر جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے طوفان پر جس طرح قابو پایا اس طرح کوئی قابو نہ پا سکا۔ فوج سب کے بھلے کیلئے کام کر رہی ہے۔ دنیا کچھ بھی سمجھے یہ ہمارے بقاء کی جنگ ہے، ہم اسے اس طریقے سے ہی لڑیں گے۔ جنرل راحیل شریف کا گلگت میں سی پیک منصوبے سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی سیکیورٹی کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے۔ سی پیک کے لیے سپیشل سیکیورٹی ڈویڑن کم ترین وقت میں بنا لیا گی ہے۔ راہداری منصوبے کے چپے چپے کی حفاظت کریں گے۔ خنجراب سے راولپنڈی تک پورا سی پیک محفوظ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہر حال میں کرنا ہے۔ پاکستان میں ترقی کرپشن کے خاتمے کے بغیر نہیں آئے گی۔ کرپشن اور دہشتگردی کے گٹھ جوڑ کو ہر قیمت پر اور ہر سطح پر توڑیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

Suicide Bomber hailed from Afghanistan. Entered through Torkham Border a...

Suicide Bomber hailed from Afghanistan. Entered through Torkham Border and I brought him to Lahore.  لاہور دھماکے کے گرفتار سہولت کار کا اعترافی بیان سامنے آگیا۔

قہر برپا کیا تم نے نبیﷺکا نام لے کر

J-31 اسٹیلتھ جنگی طیارہ جس نے امریکا کی نیندیں اڑادیں

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کا اسٹیلتھ طیارہ ’’ایف سی 31 جرفالکن‘‘ (FC-31 Gyrfalcon) عرف ’’جے 31‘‘ (J-31)، جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی کے میدان میں  چین کو امریکا کے قریب تر لے آیا ہے کیونکہ اسے صحیح معنوں میں امریکی F-35 ’’جوائنٹ اسٹرائک فائٹر‘‘ (جے ایس ایف) کا مدمقابل کہا جاسکتا ہے۔ 35-F اب تک اس کا دوسرا پروٹوٹائپ آزمائشی پروازیں کرچکا ہے اور توقع کی جارہی ہے   کہ چینی فضائیہ میں اس کی شمولیت کا سلسلہ 2022 شروع ہوجائے گا۔ ذرائع ابلاغ سے یہ تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ اس کا سب سے پہلا ممکنہ خریدار   پاکستان ہوگا لیکن ایسی غیر مصدقہ اطلاعات بھی موجود ہیں کہ اس منصوبے میں پاکستانی انجینئر اور سائنسدان بھی چینی ٹیم کے ساتھ شریک ہیں۔ یہ بات اس لیے بھی قرینِ قیاس ہے کیونکہ ایف سی ون (FC-1) منصوبے کو ’’جے ایف 17 تھنڈر‘‘ (JF-17 Thunder) کے طور پر کامیابی سے ہمکنار کرنے میں   پاکستانی ماہرین نے بھرپور کردار ادا کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج ’’تھنڈر‘‘ صرف   چین ہی میں نہیں بلکہ پاکستان میں بھی مقامی طور پر (پی اے سی کامرہ میں) تیار کیا جارہا ہے۔ ...