Skip to main content

بھارتی فوج فی الحال سرجیکل سٹرائیک کی صلاحیت نہیں رکھتی: جاپانی میگزین


بھارت کا سرجیکل اسٹرائیک کا جھوٹا دعویٰ بدنامی کا سبب بن گیا۔ جاپانی میگزین نے بھارتی دعوؤں کو بے نقاب کر دیا۔ جاپانی میگزین نے کا دعویٰ ہے کہ سرجیکل اسٹرائیک کے لیے جس قسم کے ہتھیاروں کی ضرورت ہے وہ بھارتی فوج کے دسترس میں نہیں ہیں۔ 

ٹوکیو: (ویب ڈیسک) بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کا جھوٹا دعویٰ دنیا بھر میں بھارتی فوج کی جگ ہنسائی کا ساماں بن گیا۔ جاپانی میگزین نے بیچ چوراہے بھارتی دعوے کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ دی ڈپلومیٹ کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ فی الحال بھارتی فوج ایسے کسی سرجیکل سٹرائیک کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی۔ میگزین کے مطابق پاکستانی کی فضائی سیکیورٹی بہت ایڈوانس ہے جبکہ سرجیکل اسٹرائیک کے لیے جس قسم کے ہتھیاروں کی ضرورت ہے بھارتی فوج کو ابھی ان ہتھیاروں تک رسائی نہیں ہے۔ میگزین نے پاکستانی میزائیل سسٹم کی موجودگی میں کشمیر جیسے حساس مقام پر سرجیکل اسٹرائیک کو نا ممکن قرار دیا۔ 

Comments

Popular posts from this blog

Suicide Bomber hailed from Afghanistan. Entered through Torkham Border a...

Suicide Bomber hailed from Afghanistan. Entered through Torkham Border and I brought him to Lahore.  لاہور دھماکے کے گرفتار سہولت کار کا اعترافی بیان سامنے آگیا۔

قہر برپا کیا تم نے نبیﷺکا نام لے کر

J-31 اسٹیلتھ جنگی طیارہ جس نے امریکا کی نیندیں اڑادیں

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کا اسٹیلتھ طیارہ ’’ایف سی 31 جرفالکن‘‘ (FC-31 Gyrfalcon) عرف ’’جے 31‘‘ (J-31)، جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی کے میدان میں  چین کو امریکا کے قریب تر لے آیا ہے کیونکہ اسے صحیح معنوں میں امریکی F-35 ’’جوائنٹ اسٹرائک فائٹر‘‘ (جے ایس ایف) کا مدمقابل کہا جاسکتا ہے۔ 35-F اب تک اس کا دوسرا پروٹوٹائپ آزمائشی پروازیں کرچکا ہے اور توقع کی جارہی ہے   کہ چینی فضائیہ میں اس کی شمولیت کا سلسلہ 2022 شروع ہوجائے گا۔ ذرائع ابلاغ سے یہ تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ اس کا سب سے پہلا ممکنہ خریدار   پاکستان ہوگا لیکن ایسی غیر مصدقہ اطلاعات بھی موجود ہیں کہ اس منصوبے میں پاکستانی انجینئر اور سائنسدان بھی چینی ٹیم کے ساتھ شریک ہیں۔ یہ بات اس لیے بھی قرینِ قیاس ہے کیونکہ ایف سی ون (FC-1) منصوبے کو ’’جے ایف 17 تھنڈر‘‘ (JF-17 Thunder) کے طور پر کامیابی سے ہمکنار کرنے میں   پاکستانی ماہرین نے بھرپور کردار ادا کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج ’’تھنڈر‘‘ صرف   چین ہی میں نہیں بلکہ پاکستان میں بھی مقامی طور پر (پی اے سی کامرہ میں) تیار کیا جارہا ہے۔ ...