Skip to main content

وٹس ایپ استعمال کرنے والے خبردار ہوجائیں

سوشل میڈیا کی مقبول میسنجر ایپ بارے سوشل میڈیا پر خبریں گردش کررہی ہے کہ آئندہ ایک ماہ میں وٹس ایپ کے تمام صارفین کا ڈیٹا فیس بک اکائونٹس سے منسلک کرکے اسے پبلک کیا جائیگا تاہم اس سلسلے میں تاحال وٹس ایپ انتظامیہ کیجانب سے کسی قسم کی وضاحت نہیں کی گئی روزنامہ قدرت کے قارئین کیلئے پیش خدمت ہے ضروری معلومات اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپکی وٹس ایپ معلومات فیس بک پر شیئر نہ کی جائے اور اسے پبلک نہ کیا جائے تو اس طریقہ کار پر عمل کریں
 اپنی اور اپنے اھل خانہ کی تفصیلات کو فیس بک پر عام ھونے سے بچانے کے لئے اس سبز رنگ کئ ٹک کو Undo کر دیں ،،وٹس ایپ معلومات کو فیس بک پر شیئر ھونے سے بچانے کے لئے ،،سیٹنگز پر جایئے ،، پھر اکاونٹ پر جایئے ،وھاں جو " ِٹک " لگا ھوا ھے کہ میری معلومات کو شیئر کریا جائے ، اس ٹک کو مٹا دیجئے ،، ورنہ آپ کی وٹس ایپ تفصیلات فیس بک پر شیئر کر دی جائیں گی ،
1- Settings (Whatsapp)
2- Account
3- Remove sign of Tick

Comments

Popular posts from this blog

Suicide Bomber hailed from Afghanistan. Entered through Torkham Border a...

Suicide Bomber hailed from Afghanistan. Entered through Torkham Border and I brought him to Lahore.  لاہور دھماکے کے گرفتار سہولت کار کا اعترافی بیان سامنے آگیا۔

قہر برپا کیا تم نے نبیﷺکا نام لے کر

J-31 اسٹیلتھ جنگی طیارہ جس نے امریکا کی نیندیں اڑادیں

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کا اسٹیلتھ طیارہ ’’ایف سی 31 جرفالکن‘‘ (FC-31 Gyrfalcon) عرف ’’جے 31‘‘ (J-31)، جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی کے میدان میں  چین کو امریکا کے قریب تر لے آیا ہے کیونکہ اسے صحیح معنوں میں امریکی F-35 ’’جوائنٹ اسٹرائک فائٹر‘‘ (جے ایس ایف) کا مدمقابل کہا جاسکتا ہے۔ 35-F اب تک اس کا دوسرا پروٹوٹائپ آزمائشی پروازیں کرچکا ہے اور توقع کی جارہی ہے   کہ چینی فضائیہ میں اس کی شمولیت کا سلسلہ 2022 شروع ہوجائے گا۔ ذرائع ابلاغ سے یہ تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ اس کا سب سے پہلا ممکنہ خریدار   پاکستان ہوگا لیکن ایسی غیر مصدقہ اطلاعات بھی موجود ہیں کہ اس منصوبے میں پاکستانی انجینئر اور سائنسدان بھی چینی ٹیم کے ساتھ شریک ہیں۔ یہ بات اس لیے بھی قرینِ قیاس ہے کیونکہ ایف سی ون (FC-1) منصوبے کو ’’جے ایف 17 تھنڈر‘‘ (JF-17 Thunder) کے طور پر کامیابی سے ہمکنار کرنے میں   پاکستانی ماہرین نے بھرپور کردار ادا کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج ’’تھنڈر‘‘ صرف   چین ہی میں نہیں بلکہ پاکستان میں بھی مقامی طور پر (پی اے سی کامرہ میں) تیار کیا جارہا ہے۔ ...