Skip to main content

پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کا اب دو جواب! دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجروال نے بھانڈہ پھوڑ دیا،بھارت شرم سے پانی پانی،دنیامیں مذاق بن گیا

اروندکجریوال نے مودی سے سرجیکل اسٹرائیک کے ثبوت مانگ لئے ،بڑی بھارتی جماعت کاپاکستان بارے اہم مشورہ

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور نئی دہلی کے وزیراعلی اروند کجریوال نے بھارتی وزیراعظم سے سرجیکل اسٹرائیکس کے ثبوت مانگ لیئ تفصیلات کے مطابق بھارت کے دارلحکومت نئی دہلی کے وزیراعلی اروند کجریوال نے کہاہے کہ بین الاقوامی میڈیا بھارت کے لائن آف کنٹرول پر سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے کو ماننے سے انکاری ہے۔اس حوالے سے سی این این کی ایک رپورٹ بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں ان علاقوں کو دکھایا گیا ہے جہاں بھارت نے سرجیکل اسٹرائیک کرنے کا دعوی کیا تھا۔ تاہم رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ وہاں پر رہنے والی آبادی پرسکون زندگی گزار رہی ہے اور وہاں سے ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے جس سے سرجیکل اسٹرائیک کا دعوی درست ثابت ہو۔ اروند کجریوال کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ دیکھ کر ان کا خون کھول اٹھا ہے اور وہ مودی سرکار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ لائن آف کنٹرول پر سرجیکل اسٹرائیک کے ثبوت منظر عام پر لائے جائیں۔جبکہ کمیونسٹ پارٹی انڈیا کے جنرل سیکرٹری سیتارام یچوری نے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، مودی سرکار عقل کے ناخن لے، نئی دہلی پاکستان سے کشیدگی بڑھانے کی بجائے بات چیت دوبارہ شروع کرے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک انٹرویومیں کمیونسٹ پارٹی انڈیا کے جنرل سیکرٹری سیتارام یچوری نے کہاکہ اڑی واقعے پر منفی پروپیگنڈا کرکے بھارت نے خطے میں کشیدگی کو ہوا دی اور پھر کنٹرول لائن پر سرجیکل اسٹرائیک کا بے بنیاد دعویٰ بھی کیا ۔انہوں نے کہاکہ جنگی جنون میں مبتلا بھارتی میڈیا نے بھی جلتی پر خوب تیل ڈالا ، پاکستان کے حصے کا پانی بند کرنے، سرحد پار مزید حملوں اور اسلام آباد کو ہر محاذ پر تنہا کرنے کا شوشا چھوڑا،لیکن اب بھارت میں سمجھ بوجھ رکھنے والے آواز بلند کررہے ہیں کہ مودی سرکار عقل کے ناخن لے،خطے میں کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔کمیونسٹ پارٹی انڈیا کے جنرل سیکرٹری سیتا رام یچوری نے ایک انٹرویو میں مودی سرکار کو سمجھانے کی کوشش کی کہ پاکستان سے کشیدگی کو مزید ہوا نہ دی جائے، اسلام آباد سے سیاسی اور سفارتی سطح پر بات چیت کا دوبارہ آغاز کیا جائے تاکہ ان معاملات کا کوئی حل نکالا جاسکے۔


Comments

Popular posts from this blog

Suicide Bomber hailed from Afghanistan. Entered through Torkham Border a...

Suicide Bomber hailed from Afghanistan. Entered through Torkham Border and I brought him to Lahore.  لاہور دھماکے کے گرفتار سہولت کار کا اعترافی بیان سامنے آگیا۔

داستان گمنام محافظوں کی

شہید ہونے والی آئی ایس آئی آفیسر کو داعش نے نہیں پنجابی طالبان نے شہید کیا ہے۔ شرٹ کی بیک سائیڈ پہ لکھی ہوئی تحریر جسے عربی انداز میں لکھنے کی کوشش کی گئی ہے وہ اردو اندازِتحریر ہے عربی نہیں۔ بچے کھچے پنجابی طالبان جو ٹی ٹی پی کے ہیں وہ داعش کا نام استعمال کر رہے ہیں جس کے پیچھے دو بڑے مقاصد ہیں۔ ان کو کنٹرول کرنے والے عالمی سطح پر یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ داعش پاکستان میں بہت فعال ہو چکی ہے۔ تا کہ پرامن پاکستان کے متعلق جو تاثر دنیا میں قائم ہو رہا ہے وہ مسخ ہو سکے۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں داعش کی تشہیر اس انداز سے کی جائے کہ شام و عراق میں لڑنے والے جتھے جو داعش کی پیروی میں لڑ رہے ہیں وہ یہاں کا رخ کریں۔ اسطرح جوجنگ وہاں مسلط ہے وہ پھیل کر یہاں آجائے ساری زندگی گمنامی میں رہ کر ہماری حفاظت کرنے والے عام طور پر گمنامی میں شہید ہو جاتے ہیں۔ ہمیں پتہ تک نہیں چلتا اور وہ ہم پہ قربان ہو چکے ہیں۔ ہمارے فوجی جوان جب شہید ہوتے ہیں ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ ہمارے لیے اور اس ملک کےلیے شہید ہوئے ہیں، ہم فخر سے دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ دیکھو ہمارے دفاع پہ متعین کتنے شوق سے اللہ کی راہ ...

ہیڈکانسٹیبل رافعہ قسیم

سال 2002کے بعد جب پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں نے اپنی کارروائیاں تیز کیں تو معاشرے کا کوئی بھی طبقہ اس سے محفوظ نہیں رہ سکا ۔ حملہ آوروں نے 1000 سے زائد سکولوں اور درجنوں ہسپتالوں، پلوں، نجی املاک، پولیس تھانوں اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ جنازوں، مساجد اور مزاروں تک کو نہیں بخشا۔ صوبہ خیبر پختونخوا اور فاٹا ان کا خصوصی طور پر نشانہ بنے۔ لاتعداد سرکاری ملازمین کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ متعدد علاقوں میں ملازمین کو حالات کے جبر کے باعث ملازمتیں بھی چھوڑنی پڑیں۔ سال 2007کے بعد حملوں کی تعداد میں یکدم شدت آئی تو صورت حال قابو سے باہر ہونے لگی اور اس سے نمٹنے کے لئے جہاں ہماری افواج میدان میں ایک نئے جذبے کے ساتھ نکلنے پر مجبور ہوئیں، وہاں ایف سی اور پولیس بھی عوام کے تحفظ کے لئے میدان میں نکل آئیں۔ایک اندازے کے مطابق سال 2013 تک صوبہ خیبرپختونخوا کے 1570 سے زائد پولیس اہلکاروں کی شہادتیں ہوئیں جن میں 100افسران بھی شامل ہیں۔ پولیس نے نہ صرف سیکڑوں شہادتیں دیں بلکہ عوام کے تحفظ کے لئے 24خودکش حملوں سمیت 80 سے زائد براہ راست حملے بھی بر...